
نسلیں مٹ جاتی ہیں، خدا کا کلام باقی رہتا ہے
ہر دور میں انسان نے خود کو وقت کے آئینے میں دیکھا ہے۔ کبھی نسلوں کو خاندان، قبیلے یا قوم سے پہچانا گیا، اور جدید دور میں انہیں ٹیکنالوجی، سماجی حالات اور تاریخی تجربات سے جوڑا جانے لگا۔ یہ بات درست ہے کہ ہر نسل مختلف حالات میں پروان چڑھتی ہے اور اسی بنیاد پر اس کی سوچ، ترجیحات اور کام کرنے کے انداز میں فرق آتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی اصل شناخت صرف وقت اور حالات سے بنتی ہے، یا اس کے پیچھے کوئی مستقل حقیقت بھی موجود ہے؟
بائبل نسلوں کی آمد و رفت کو ایک فطری عمل قرار دیتی ہے، مگر ساتھ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ وقت بدلنے کے باوجود کچھ سچائیاں نہیں بدلتی۔ انسان کی بنیادی ضرورت، اس کی اخلاقی کمزوری اور اس کی روحانی پیاس ہر نسل میں ایک جیسی رہتی ہے۔
تجربہ، توازن اور رفتار — مگر ہدایت کے بغیر نامکمل
بڑی عمر کی نسلیں نظم، صبر اور ادارہ جاتی ذمہ داری پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کی سوچ میں تسلسل اور قربانی نمایاں ہے، مگر اکثر طاقت اور نظم کے ساتھ عاجزی اور روحانی احتساب کی کمی نظر آتی ہے۔ تجربہ انسان کو مضبوط تو بناتا ہے، مگر نجات نہیں دیتا۔
درمیانی نسلیں حقیقت پسند ہوتی ہیں۔ وہ اندھا اعتماد بھی نہیں کرتیں اور مکمل بغاوت بھی نہیں چنتیں۔ ان کی احتیاط انہیں ٹوٹنے سے بچاتی ہے، مگر یہی احتیاط اگر امید اور ایمان سے خالی ہو جائے تو انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔
نئی نسل رفتار، معلومات اور ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔ اس کے پاس سوال ہیں، آواز ہے اور وسائل ہیں، مگر اکثر سمت واضح نہیں ہوتی۔ معلومات کی کثرت حکمت کی ضمانت نہیں بنتی، اور آزادی اگر مقصد سے خالی ہو تو بوجھ بن جاتی ہے۔
یہ تمام خوبیاں—تجربہ، توازن اور رفتار—اپنی جگہ اہم ہیں، مگر بائبل کے مطابق یہ سب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک انسان کی رہنمائی کسی مستقل سچائی سے نہ ہو۔
کلامِ خدا: وہ معیار جو نسلوں سے بلند ہے
بائبل انسان کی شناخت کو صرف اس کے دور یا ٹیکنالوجی سے نہیں جوڑتی بلکہ اسے خالق سے تعلق میں رکھتی ہے۔
اسی لیے کہا گیا ہے کہ نسلیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر خدا کا کلام قائم رہتا ہے۔ یہ کلام ہر دور میں انسان کو ایک ہی حقیقت کی طرف بلاتا ہے: کہ انسان اپنی کوشش، علم یا نظام سے خود کو مکمل نہیں کر سکتا۔
ٹیکنالوجی ترقی کر سکتی ہے، ریاستیں بدل سکتی ہیں، اور انسان زمین سے آگے خلا تک پہنچ سکتا ہے، مگر انسانی دل کے بنیادی سوال وہی رہتے ہیں: میں کون ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور میرا انجام کیا ہوگا؟
تمام نسلوں کے لیے ایک مشترکہ ضرورت
بائبل کے مطابق ہر نسل کو مسیح کی ضرورت اس لیے نہیں کہ وہ پسماندہ ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ انسان ہے۔ مسیح انسان کو نہ صرف نیا مقصد دیتا ہے بلکہ اسے خدا کے ساتھ بحال شدہ رشتہ عطا کرتا ہے۔ اور روح القدس وہ رہنمائی فراہم کرتا ہے جو علم کو حکمت، طاقت کو محبت اور رفتار کو سمت میں بدل دیتی ہے۔
یہ نقطۂ نظر نسلوں کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بناتا بلکہ ایک ہی سفر کا حصہ دکھاتا ہے—ایسا سفر جس میں پرانی نسل کا تجربہ، درمیانی نسل کا توازن اور نئی نسل کی توانائی تب ہی ثمرآور ہوتی ہے جب وہ خدا کی سچائی کے تحت آگے بڑھے۔
نتیجہ
نسلوں کا بدلنا مسئلہ نہیں، بلکہ فطرت کا اصول ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان بدلتے وقت کو ہی حتمی سچ سمجھنے لگتا ہے۔ بائبل یاد دلاتی ہے کہ وقت کی رفتار سے اوپر ایک ابدی معیار موجود ہے، اور وہ خدا کا کلام ہے۔
ایک نسل جائے گی، دوسری آئے گی، مگر خداوند کا کلام ہمیشہ قائم رہے گا۔ (واعظ 1: 4، اشعیا 8: 40)
یہی کلام ہر نسل کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ صرف نئے دور کے مطابق نہ بدلے، بلکہ اُس سچ کے مطابق جئے جو کبھی نہیں بدلتا۔
Canada and US Delivery
Langley–Chilliwack small fee
Secure Payment
Pay with secure payment methods
Custom Prints Made Easy
Shirt printing service
24/7 Help Center
We'll respond to you within 24 hours
About Us
Cross & Crown is committed to making the Word of God accessible to every believer,
whether at home, school, church, or on the go.
- +1 (604) 600-8851
- [email protected]
- Unit #1 27295 30 Ave Aldergrove, BC, Canada
Departments
Who Are We
Our Mission
Awards
Experience
Success Story
Quick Links
Who Are We
Our Mission
Awards
Experience
Success Story
Copyright © 2026 Cross & Crown, All rights reserved.
Don’t Miss What’s New
Get early access to new arrivals, faith-based collections, and important updates.
Use above code to get 10% off for your first order when checkout. Don’t miss it.










